اپنے من کی ویرانی سے گھبرا کر

 
">


اپنے من کی ویرانی سے گھبرا کر
میں نے اس کے مکیں کو سوچا
جب وہ تھا تو کتنی خوشیاں
من آنگن میں گھومتی تھیں
اسکی باتیں
اسکی ہنسی
کیسے مجھ کو شاد رکھتی تھیں
اور میرے چہرے پہ إک
سجیلی مسکان سجی رہتی
لیکن اس کے جانے سے
اب
من میں کیسی ویرانی ہے
کتنا گہرا سناٹا ہے
یادیں ہیں کہ
حسرت سے دیوارودر کو تکتی ہیں
اداسی بھی سر نہیوڑاے
إک کونے میں بیٹھی ہے
لاکھ میں اس کو دھتکاروں
دھکے دے کےمن آنگن سے باہر نکالوں
وہ روتی ہے کُرلاتی ہے
دہلیز سے چمٹی جاتی ہے