تم مگر نہیں مانیں

 
Posted by:Zeshan

تم مگر نہیں مانیں
تم نے ضد نہیں چھوڑی
تم کبھی تو سمجھو گی
زخم نارسائی کے
عمر بھر نہیں سِلتے
ایک بار مُرجھا کر
پھول پھر نہیں کِھلتے
جانِ جاں ، محبت میں
دل اگر بچھڑ جائیں
پھر کبھی نہیں ملتے…….!!

—–



بس اک میری بات نہیں تھی
سب کا درد دسمبر تھا’
برف کے شہر میں رہنے والا
اک اک فرد دسمبر تھا’
پچھلے سال کے آخر میں بھی
حیرت میں ہم تینوں تھے…
اک میں تھا’ اک تنہائی تھی
ایک بےدرد دسمبر تھا’
اپنی اپنی ہمت تھی
اور اپنی اپنی قسمت تھی!
ہاتھ کسی کے نیلے تھے
اور پیلا زرد دسمبر تھا’
پھولوں پر تھا سکتہ طاری
خوشبو سہمی سہمی تھی
خوف زدہ تھا گلشن سارا
دہشت گرد دسمبر تھا’

Advertisement