[Urdu Sad Poetry] Zakim Akk ur Sahi phir se

 
زخم اک اور سہی پھر سے گوارا کر لیں
اے میری جان چلو عشق دوبارہ کر لیں
ہجر کی آگ میں جلنا ہی مقدّر ہے جب
پھر تو ایسا ہے لہو کو ہی شراره کر لیں
کل کو میں توڑ کے لا دوں گا ستارے جاناں
آج کی رات ان اشکوں پہ گزارا کر لیں
عشق میں خوب منافع تو کمائے ہم نے
آپ کی جو ہو اجازت تو خسارہ کر لیں

Advertisement